کبھی تیری مجھ سے ملاقات ہوتی

کبھی تیری مجھ سے ملاقات ہوتی
تو مل کے بچھڑتا تو پھر بات ہوتی

یہ دن بھی گزرتے محبت میں تیری
نہ پھر زندگی میں کبھی شام ہوتی

جو ہوتا گزر تیرا میری گلی سے
توتجھ پہ بھی پھولوں کی برسات ہوتی

میں لڑتا رقیبوں سے تیری ہی خاطر
محبت میں مجھ کونہ پھر مات ہوتی

میں جوچاہتا تھا کبھی ویسا ہوتا
محبت کا محور تری ذات ہوتی

ڈاکٹر محمدالیاس عاجز

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان