فلسطین

فلسطین

اے مورّخ ترے ہاتھ سے چھوٹ کر
دیکھ قدموں میں تیرے قلم گر گیا
جا بجا روشنائی بکھر سی گئی
جیسے چھینٹے لہو کے ہوں پھیلے ہوئے

وہ لہو سرزمینِ فلسطیں جسے
اپنے آغوش میں جذب کرتی رہی
وہ لہو آسمانِ فلسطیں جسے
چشمِ حیرت سے مایوس تکتا رہا
وہ لہو جو نہتّے بدن سے بہا
وہ لہو جو کہ بچّوں کے تن سے بہا
وہ لہو ماں کے آنچل پہ جو جم گیا
وہ لہو جس کے بہنے کا کوئی اثر
نسلِ انسانیت پر ہوا ہی نہیں
عہدِ حیوانیت پر ہوا ہی نہیں

اے مورّخ قلم ہاتھ میں پھر اٹھا
جا بجا روشنائی بکھرنے نہ دے
وہ مقدّس لہو جو شہیدوں کا ہے
اس کو مضموں بنا ، کوئی عنوان دے
عہدِ حیوانیت کی ڈگر پر نہ جا
اپنی انسانیت آسمانی بنا
اپنی انسانیت جاودانی بنا

عزیز نبیلؔ

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

کیا تم نے کبھی دیکھا ہے ؟

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا