کبھی تقصیر جس نے کی ہی نہیں

کبھی تقصیر جس نے کی ہی نہیں

ہم سے پوچھو تو آدمی ہی نہیں

مر چکے جیتے جی خوشا قسمت

اس سے اچھی تو زندگی ہی نہیں

دوستی اور کسی غرض کے لئے

وہ تجارت ہے دوستی ہی نہیں

یا وفا ہی نہ تھی زمانے میں

یا مگر دوستوں نے کی ہی نہیں

کچھ مری بات کیمیا تو نہ تھی

ایسی بگڑی کہ پھر بنی ہی نہیں

جس خوشی کو نہ ہو قیام و دوام

غم سے بد تر ہے وہ خوشی ہی نہیں

بندگی کا شعور ہے جب تک

بندہ پرور وہ بندگی ہی نہیں

ایک دو گھونٹ جام وحدت کے

جو نہ پی لے وہ متقی ہی نہیں

کی ہے زاہد نے آپ دنیا ترک

یا مقدر میں اس کے تھی ہی نہیں

اسماعیلؔ میرٹھی

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا