مہربانی بھی ہے عتاب بھی ہے

مہربانی بھی ہے عتاب بھی ہے

کچھ تسلی کچھ اضطراب بھی ہے

ہے تو اغیار سے خطاب مگر

میری ہر بات کا جواب بھی ہے

واں برابر ہے خلوت و جلوت

اس کی بے پردگی حجاب بھی ہے

ہو قناعت تو ہے جہاں دریا

حرص غالب ہو تو سراب بھی ہے

وہ تخبتر کہاں تپاک کہاں

گرم و روشن تو آفتاب بھی ہے

اسماعیلؔ میرٹھی

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا