نکلے چلے آتے ہیں تہ خاک سے کھانے

نکلے چلے آتے ہیں تہ خاک سے کھانے

یہ خوان کرم کس نے بچھایا ہے خدا نے

جو دل میں ہے منہ پھوڑ کے برور نہیں کہتے

مارا مجھے یاروں کی درست اور بجا نے

غفلت میں ہیں سر مست بدلتے نہیں کروٹ

گو سر پہ اٹھا لی ہے زمیں شور درا نے

اسراف نے ارباب تمول کو ڈبویا

عالم کو تفاخر نے تو زاہد کو ریا نے

مرد اس کو سمجھتے نہ کیا ہو جسے بدمست

ایام جوانی کی مے ہوش ربا نے

با‌ ایں ہمہ درماندگی انساں کے یہ دعوے

کیا ذات شریف ان کو بنایا ہے خدا نے

جلوت کا بھروسہ ہے نہ خلوت کی توقع

سب وہم تھا یاروں نے جو تاکے تھے ٹھکانے

اسماعیلؔ میرٹھی

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان