ملنےکو آ رہے ہیں وہ کافی دنوں کے بعد

ملنے کو آ رہے ہیں وہ کافی دنوں کے بعد
یعنی وہ دے رہے ہیں معافی دنوں کے بعد

میں مطمئن تھا درمیاں ہجر و وصال کے
رکھا گیا ہے بوجھ اضافی ، دنوں کے بعد

جی چاہتا ہے وار دوں میں ان پہ کائنات
دَارُو ہوا ہے آج تو شافی دنوں کے بعد

نامِ خدا قبول کریں معذرت جناب
غلطی کی کر رہا ہوں تلافی دنوں کے بعد

بدلے ہیں رت کے ساتھ مرے بھی تخیلات
ڈھونڈے ہیں اس طرح کے قوافی دنوں کے بعد

محمد رضا نقشبندی

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

نہیں خزاں ہی نشان قاتل