بے قراری سی پیدا ہوئی من میں ہے

بے قراری سی پیدا ہوئی من میں ہے
جس کو دیکھو وہی ایک الجھن میں ہے

راس آئی نہیں ہم کو تبدیلیاں
بھوک پھیلی ہوئی گھر کے آنگن میں ہے

بچے بوڑھے جواں ، چہرے کملائے سے
جانتے ہیں سبھی کچھ نہ برتن میں ہے

خرچہ اتنا بڑھا قرضہ سر پر چڑھا
اک عجب بے کلی سب کے جیون میں ہے

ایسے میں پھر وبا آ رہی ہے رضا
خوف پیدا ہوا دل کی دھڑکن میں ہے

محمد رضا نقشبندی

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی