جو مقدر دیا گیا مجھ کو

جو مقدر دیا گیا مجھ کو
مجھ سے کمتر دیا گیا مجھ کو

دھند باندھی گئی ہے نظروں سے
کیسا منظر دیا گیا مجھ کو

خالی پن تھا خلا سا "وحشت سے
ایک دن بھر دیا گیا مجھ کو”

میرے ہونے کو یوں جواز ملا
مصرعۂ تر دیا گیا مجھ کو

خواب کروٹ بدل نہیں سکتا
ایسا بستر دیا گیا مجھ کو

اک زمانہ پرے زمانے سے
قدرے بہتر دیا گیا مجھ کو

ایک لکنت مری زبان میں ہے
دل پیمبر دیا گیا مجھ کو

میں کہ حیرت سے دیکھتا تھا فلک
آئینہ کر دیا گیا مجھ کو

عدنان سرمد

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

نہیں خزاں ہی نشان قاتل