جوہرِ بیش بہا کو کھولا

جوہرِ بیش بہا کو کھولا
اسم سے قفلِ خدا کو کھولا

چاک کیوں اپنا گریباں نہ کروں
میں نے اس بندِ قبا کو کھولا

میں نے قطرہ کیا قلزم کو شمار
آفرینش سے بقا کو کھولا

کھول کر مجھ پہ فسوں کار نگاہ
اور ہی آب و ہوا کو کھولا

بے جہت میں سے نکالی اک راہ
اور اس ارض و سما کو کھولا

باغ میں کھول کے دکانِ بہار
وسعتِ رنگ نما کو کھولا

عدنان سرمد

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا