جوہرِ بیش بہا کو کھولا
اسم سے قفلِ خدا کو کھولا
چاک کیوں اپنا گریباں نہ کروں
میں نے اس بندِ قبا کو کھولا
میں نے قطرہ کیا قلزم کو شمار
آفرینش سے بقا کو کھولا
کھول کر مجھ پہ فسوں کار نگاہ
اور ہی آب و ہوا کو کھولا
بے جہت میں سے نکالی اک راہ
اور اس ارض و سما کو کھولا
باغ میں کھول کے دکانِ بہار
وسعتِ رنگ نما کو کھولا
عدنان سرمد