جو ہے وہ غُبار سا بچا ہے

جو ہے وہ غُبار سا بچا ہے
اس شہر میں اور کیا بچا ہے

منزل کہیں پیچھے رہ گئی ہے وہ
پیروں میں آبلہ بچا ہے

اک رشتہ کھو چکا بھروسہ
اک رستہ گریز کا بچا ہے

سیماب صِفَت چلا گیا ہے
کمرے میں آئینہ بچا ہے

بے وزن ہوئی ہیں سب دلیلیں
جو بچ گیا وہ خدا بچا ہے

ہم جس کو مکان کہہ رہے ہیں
ملبہ امکان کا بچا ہے

عدنان سرمد

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے