جس نے میرا دل دکھایا دیر تک

جس نے میرا دل دکھایا دیر تک
وہ بھی مجھ کو یاد آیا دیر تک

ہم اگر اپنا بنانا سیکھ لیں
کیا رہے کوئی پرایا دیر تک

اُس کے غم کا بوجھ ہلکا ہو گیا
جس نے حالِ دل سنایا دیر تک

بھوکے بچّوں کو سُلانے کے لیے
ماں نے پتھر کو پکایا دیر تک

تھا یقیناً وہ محبت کا چراغ
جو ہوا میں جگمگایا دیر تک

اب نہیں آؤں گا تیرے دام میں
میں نے تجھ کو آزمایا دیر تک

میں نے تیری لاج رکھ لی ساقیا
بے پیے ہی لڑکھڑایا دیر تک

درد کو میرے وہ سمجھے گا ولیؔ
زخم جس کو راس آیا دیر تک

ولی اللّٰہ ولی

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان