دل میں نورِ جلوۂ ایمان ہے

دل میں نورِ جلوۂ ایمان ہے
مومنوں کی بس یہی پہچان ہے

کون سنتا ہے مِری آہ و فُغاں
یہ جہاں اب حشر کا میدان ہے

میں وفا کی دھوپ میں جلتا رہوں
گیسوؤں والے ترا احسان ہے

درد دے کر مجھ کو دیتے ہیں دوا
اُن کا مجھ پر یہ بڑا احسان ہے

ہمدم دیرینہ بے شک بن ترے
زندگی اپنی بہت ویران ہے

ہو گئے رنج و الم حد سے سوا
زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے

پوچھتے کیا ہو ولیؔ کی داستاں
بس سمجھ لو میرؔ کا دیوان ہے

 

ولی اللّٰہ ولی

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی