جھلستی دھوپ میں مجھ کو جلا کے مارے گا

جھلستی دھوپ میں مجھ کو جلا کے مارے گا

وہ میرا اپنا ہے چھاؤں میں لا کے مارے گا

وہ چاہتا تو مری خاک ہی اڑا دیتا

یہ کوزہ گر کی عنایت بنا کے مارے گا

اسے خبر ہے لڑائی میں ہار سکتا ہے

سو اپنا آپ وہ مجھ میں سما کے مارے گا

اس ایک خوف سے میں جنگ میں شہید ہوا

عدو کمینہ ہے طعنے خدا کے مارے گا

میں اس کے جال میں آؤں گا دیکھنا قیصرؔ

وہ مجھ کو دھوکے سے گھر میں بلا کے مارے گا

زبیر قیصر

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا