جب ساتھ چراغوں کے، پرچھائیاں چلتی ہیں

جب ساتھ چراغوں کے، پرچھائیاں چلتی ہیں
ہر موڑ پہ پھر اُن کی، شکلیں بھی بدلتی ہیں

کب وصل کا سورج بھی، ایسے میں نکلتا ہے
جب رات کے سانچے میں، تنہائیاں ڈھلتی ہیں

آغاز تَعَشُّق میں، دیکھا ہے یہی اکثر
گلشن میں محبّت کے، آشائیں ٹہلتی ہیں

اک جشنِ بہاراں پھر، ہر شاخ پہ ہوتا ہے
اوڑھے ہوئے گھونگھٹ کو، جب کلیاں نکلتی ہیں

تیرا بھی حسیں وعدہ، کچھ ایسے پھسلتا ہے
پتّوں سے حسیں بوندیں، جس طرح پھسلتی ہیں

مظلوم کے نالوں میں، تاثیر ہے پوشیدہ
پتھر کی چٹانیں بھی، آہوں سے پگھلتی ہیں

دل میں اے منوّر ہیں، کچھ یوں ہی تمناّئيں
موجیں کہیں دریا کی، جس طرح مچلتی ہیں

سیّدہ منوّر جہاں منوّر

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا