اس شور سخن میں ابھی خاموش رہوں گا

اس شور سخن میں ابھی خاموش رہوں گا
میں شعر کہوں گا تو سلیقے سے کہوں گا

میں حد سے گزر آیا تو سب جھوٹ لگا ہے
آنکھوں نے جو دیکھا ہے میں وہ کرب سہوں گا

میں شاخ بریدہ جو سر راہ ہوں تو کیا
کچھ دیر تو موسم کی ہواوں سے لڑوں گا

جب تک نہ پلٹ آئے بہاروں بھرا موسم
میں سوکھے ہوئے پیڑوں کی آواز بنوں گا

بے چین پڑا ہوں کوئی طوفان لئے دل میں
میں سست نہیں ہوں جو آہستہ بہوں گا

اس آس پہ عثمان سرگرداب پڑا ہوں
اک روز تو دریا کے کنارے سے لگوں گا

عثمان اقبال خان

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی