جب پہلی بار ان سے مرا سامنا ہوا

جب پہلی بار ان سے مرا سامنا ہوا
خاموش تھے وہ چہرے کا تھا رنگ اڑا ہوا

چھوڑیں جی چھوڑ یے نہ کریں بات اب کوئی
باتوں سے آپ کی مرا دل ہے دکھا ہوا

اک آپ کو ہی سمجھا تھا اپنا جنابِ من
وعدہ مگر نہ آپ کا کوئ وفا ہوا

غصے میں انکو دیکھ کے سب چھوڑ چھاڑ کے
بیٹھے ہیں دل کو تھام کے یہ ہم سے کیا ہوا

موسم خزاں کا ہو یا ہو موسم بہار کا
اب دل ہمارا رہتا ہے اکٹر بجھا ہوا

کرتا ہے کو ئ بات نہ سنتا ہے بے وفا
جاتا ہے سامنے سے مگر گھورتا ہوا

حالت کو انکی دیکھ کے دلگیر ہو گئے
وہ ہیں اداس آج یہ کیا ماجرہ ہوا

ہم نے خدا پہ چھوڑ دیےسارے فیصلے
اچھا ہوا یا شازیہ ہم سے برا ہوا

شازیہ طارق

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے