غمِ زندگی کو بھلا دیجیے

غمِ زندگی کو بھلا دیجیئے
خوشی کا کوئی گیت گا دیجیئے

خطا وار ہوں سر ہے تسلیمِ خم
جو چاہے مجھے اب سزا دیجیئے

اے جانِ چمن اب ستم چھوڑ کر
چراغِ محبت جلا دیجیئے

حقیقت چھپا کر غمِ زیست کی
نہ دھوکہ مجھے با خدا دیجیئے

یوں خاموش رہنا مناسب نہیں
جو دل میں ہے مجھ کو بتا دیجیئے

وفا کر کے مجھ سے مرے ہمنوا
محبت کا کوئ صلہ دیجیئے

اکڑنا مچلنا مناسب نہیں
یا جھک جائیے یا جھکا دیجیئے

اناؤں کا پیکر ہے وہ شازیہ
ہے بہتر یہی اب دعا دیجیئے

شازیہ طارق

Related posts

​کب سے ہم نے تیرے غموں کو

حاصلِ عشق کا ہر روز تماشا نہ کریں

اپنی نیّت دیکھ لینا، پھر ہماری دیکھنا