اس کو جانے دے اگر جاتا ہے

اس کو جانے دے اگر جاتا ہے

زہر کم ہو تو اتر جاتا ہے

پیڑ دیمک کی پذیرائی میں

دیکھتے دیکھتے مر جاتا ہے

ایک لمحے کا سفر ہے دنیا

اور پھر وقت ٹھہر جاتا ہے

چند خوشیوں کو باہم کرنے میں

آدمی کتنا بکھر جاتا ہے

فیصل عجمی

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

کیا تم نے کبھی دیکھا ہے ؟

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا