وہاں ملو گے یہ مانا جو تم یہاں نہ ملے

وہاں ملو گے یہ مانا جو تم یہاں نہ ملے

مگر یہ اور بتا دو اگر وہاں نہ ملے

وہ خارِ دشت نظر میں کھٹک رہے ہیں ابھی

جو مجھ سے چھین کے دامن کی دھجیاں نہ ملے

نہ کی جنوں میں بھی توہینِ آبلہ پائی

وہاں پہ رُک گئے کانٹے ہمیں جہاں نہ ملے

ذرا بلا کے تم اپنے خلیل سے پوچھو

تمھارے گھر پہ بھی ڈھونڈ آئے تم وہاں نہ ملے

خزاں نے آ کے چمن میں وہ تفرقہ ڈالا

کہ مدتوں مجھے صیاد باغباں نہ ملے

مجھی غریب کے گھر کو قمر تباہ کیا

چمن میں برق کو اوروں کے آشیا ں نہ ملے

قمر جلال آبادی

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

نہیں خزاں ہی نشان قاتل