اسی طرح کی محبت، اسی طرح کے دکھ

اسی طرح کی محبت، اسی طرح کے دکھ
خدا دِکھائے نہ تجھ کو مری طرح کے دکھ

ہمارے سامنے بدلا ہے زندگی نے لباس
ہمارے سامنے آئے نئی طرح کے دکھ

ہماری ذات کے حجرے سے سرسری نہ گزر
ہمارے دکھ ہیں میاں! دوسری طرح کے دکھ

جو اہلِ عشق ہوں اپنی شریعتوں کے امین
تو ان کے ہوتے نہیں اوپری طرح کے دکھ

وصال و ہجر و جدائی و رنجِ بیکاری
ہمارے حِصّے میں آئے سبھی طرح کے دکھ

ہمیں دکھاؤ نہیں زخم اپنے جثّے کے
ہمیں بتاؤ نہیں ظاہری طرح کے دکھ

جو ٹھاٹ باٹ سے رہتے ہیں خوش نظرتے ہیں
انھیں بھی ہوتے ہیں نازش کئی طرح کے دکھ

شبیر نازش

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے