ماہِ نو کا پیام ہو جیسے

ماہِ نو کا پیام ہو جیسے
حسن وہ بے نیام ہو کیسے

چپ بھی ہو تو وہ بولتی ہی لگے
وہ سراپا کلام ہو جیسے

وہ جدھر جائے ساتھ ساتھ چلے
آنکھ اس کی غلام ہو جیسے

چاندنی سی ہے چاندنی ہر سو
چھت پہ ماہِ تمام ہو جیسے

آبِ سادہ کِیا تھا پیش اس نے
جھوم اٹھا دل کہ جام ہو جیسے

نام سنتے ہی چونک جاتا ہوں
عشق میرا ہی نام ہو جیسے

آپ سے بات کر کے ایسا لگا
وہ گلی ہم کلام ہو جیسے

کر رہا ہے وہ سب حساب کتاب
عشق بھی کوئی کام ہو جیسے

اس کو دیکھا تو یوں لگا نازش
گل رخوں کا امام ہو جیسے

شبیر نازش

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی