اس ملک کے رہبر ڈاکو ہیں

اس ملک کے رہبر ڈاکو ہیں سالار بدلتے رہتے ہیں
جب لوگ سمجھ لیں چہرےپھر کردار بدلتے رہتے ہیں

دو چار دنوں کی بات نہیں یہ کھیل ہےجاری برسوں سے
مکَّار ہمارے شہروں کے دستار بدلتے رہتےہیں

یہ لُوٹ کےدولت لوگوں کی پھردیس نکالا لیتے ہیں
یہ جان چھڑانے کی خاطر گھرباربدلتے رہتے ہیں

پھر بھوک تماشہ ہوگا اب میں دیکھ رہاہوں آنکھوں سے
دن رات حکومت کے دیکھو افکار بدلتے رہتے ہیں

جس شاخ پہ برگ وبار نہ ہوہروقت خزاں کاپہرہ ہو
تو جان بچانے کو پنچھی اشجار بدلتے رہتے ہیں

ڈاکٹر محمدالیاس عاجز

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے