ان کے کپڑے نہیں جسم پھاڑ ڈالو

ان کے کپڑے نہیں جسم پھاڑ ڈالو
جیسے گلاب کو پتی پتی بکھیرتے ہیں
ان کا انگ انگ ادھیڑ کر رکھ دو
بھنبھوڑو ، کاٹو
کاٹ کاٹ کر کھاؤ
اور جشن مناؤ

کوئی آئے گا
ان کے دریدہ بدن کو
صندوق میں بند کر کے
دریا برد کر دے گا
وہ پھر بھی کنارے لگ جائیں
تو ان کے لخت لخت بدن کو
کسی دلدلی زمین میں گاڑ دینا
وہ زمین کی کوکھ میں گھر بنا لیں گی
کہ دنیا ان کے لیے
اس سے بڑی اندھی قبر ہے

دکھ کا فولادی چکر چلتا رہے گا
رات دن کے ساتھ رنگ رلیاں مناتی رہے گی

مان لو کہ
آدھا سورج آدھا چاند اور آدھی عورت
موت کے ساتھ لڑتے لڑتے
آخر ایک دن ڈھل جاتے ہیں!

نجمہ منصور

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے