مجھے پیار ہے

مجھے پیار ہے آسمانوں سے
میں چاہتی ہوں
کسی روز ایک پرندہ بنوں
مشرق سے مغرب، شمال سے جنوب تک
اُڑتی پھروں
کھیتوں کو دیکھوں، دریاؤں کے اوپر سے گزروں
وادیوں اور پہاڑوں سے گلے ملوں
رات ہوتو
چاند سے
محبت کی پینگیں بڑھاؤں
تاروں کے ساتھ لکن میٹی کھیلوں
اور پھر آسمان کی وسعتوں میں کہیں
کھو جاؤں
کبھی واپس نہ آؤں!

نجمہ منصور

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی