ہجر موجود ہے فسانے میں

ہجر موجود ہے فسانے میں

سانپ ہوتا ہے ہر خزانے میں

رات بکھری ہوئی تھی بستر پر

کٹ گئی سلوٹیں اٹھانے میں

رزق نے گھر سنبھال رکھا ہے

عشق رکھا ہے سرد خانے میں

رات بھی ہو گئی ہے دن جیسی

گھر جلانے کے شاخسانے میں

روز آسیب آتے جاتے ہیں

ایسا کیا ہے غریب خانے میں

ہو رہی ہے ملازمت فیصل

رائگانی کے کارخانے میں

فیصل عجمی

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

آمد

چلو چلیں