اس میں کوئی فریب تو اے آسماں نہیں

اس میں کوئی فریب تو اے آسماں نہیں

بجلی وہاں گری ہے جہاں آشیاں نہیں

صیاد میں اسیر کہوں کس سے حالِ دل

صرف ایک تو ہے وہ بھی مرا ہم زباں نہیں

تم نے دیا ہماری وفاؤں کا کیا جواب

یہ ہم وہاں بتائیں گے تم کو یہاں نہیں

سجدے جو بت کدے میں کیے میری کیا خطا

تم نے کبھی کہا یہ مرا آستاں نہیں؟

گم کردہ راہ کی کہیں مٹی نہ ہو خراب

گرد اس طرف اڑی ہے جدھر کارواں نہیں

کیوں شمع انتظار بجھاتے ہو اے قمرؔ

نالے ہیں یہ کسی کے سحر کی اذاں نہیں

قمر جلال آبادی

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی