ہیں کہ دل میں کوئی آرزو نہیں مرے دوست

ہیں کہ دل میں کوئی آرزو نہیں مرے دوست
مگر یہ سچ کہ تری جستجو نہیں مرے دوست

ہے زخم زخم ہی کار ِ جنون کا حاصل
جہان ِعشق میں رسم ِ رفو نہیں مرے دوست

بغیر رخت کڑے دشت کا مسافر ہوں
کہ اس سفر میں کوئی آب جو نہیں مرے دوست

مری نماز کسی سہو کے سپرد ہوئی
کہ اقتداء میں کوئی باوضو نہیں مرے دوست

مری زبان پہ جاری ہے تیرا ذکر ِ خیر
یہ اور بات ترے روبرو نہیں مرے دوست

میں اس خیال کا پھر کب خیال رکھتا ہوں
وہ جس خیال میں شامل ہی تو نہیں مرے دوست

بہار میں بھی سکوت ِ خزاں سلامت ہے
سرِ چمن جو کوئی ہاؤ ہو نہیں مرے دوست

صدیق صائب

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا