ہے گرم ملکوں کا سورج ترے جلال کی گرد

ہے گرم ملکوں کا سورج ترے جلال کی گرد
غرور کاہکشاں ہے ترے جمال کی گرد

محبتوں کے خرابوں میں دھوپ کم نکلی
کبھی جدائی کے کہرے کبھی ملال کی گرد

کبھی تو گزرے ادھر سے بھی کاروان بہار
کبھی تو پہنچے یہاں بھی ترے خیال کی گرد

ہمارے بالوں پہ موسم ہے برف باری کا
ہمارے چہرے پہ اڑتی ہے ماہ و سال کی گرد

تمام عالم امکاں ہے اک خیال میں گم
نہ پا سکے گا زمانہ کبھی خیال کی گرد

خاطر غزنوی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے