ہوا سے زلف و رخ میں

ہوا سے زلف و رخ میں ہے سماں اے یار رونے کا
بندھا ہے شام سے لے تا سحر اک تار رونے کا

خدا جانے کہ آخر رفتہ رفتہ حال کیا ہوئے
ہوا ہے بے طرح آنکھوں کو کچھ آزار رونے کا

ابھی گر لہر آوے گی مجھے تو دنگ ہوئے گا
نہ کر ابر تو آگے مرے اظہار رونے کا

اثر ہوئے نہ ہوئے پر بلا سے جی تو بہلے گا
نکالا شغلِ تنہائی میں مَیں ناچار رونے کا

اسی میں ناخوشی گر ہے تو لے آ بیٹھ مت غم کھا
ترے کہنے سے بس اب میں نہیں دلدار رونے کا

ابھی رو رو کے ٹک آنسو تھمے ہیں میرے اے ہمدم
نہ لا پھر پھر کے تو کچھ ذکر اور اذکار رونے کا

حسنؔ کچھ تو کہا ہے اُس نے تجھ کو میں سمجھتا ہوں
تری آنکھیں تو نم ہیں تو نہ کر انکار رونے کا

میر حسن 

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے