نے ہوں چمن کا مائل

نے ہوں چمن کا مائل نے گل کے رنگ و رُو کا
رنگِ وفا ہو جس میں بندہ ہوں اُس کی بو کا

وہ ملکِ دل کہ اپنا آباد تھا کبھو کا
سو ہو گیا ہے تجھ بن اب وہ مقام ہُو کا

مت سہم دل مبادا یہ خون سوکھ جاوے
آتا ہے تیر اس کا پیاسا ترے لہو کا

غنچہ ہوں میں نہ گل کا نے گل ہوں میں چمن کا
حسرت کا زخم ہوں میں اور داغ آرزو کا

لایا غرور پر یہ عجز و نیاز تجھ کو
تیرا گنہ نہیں کچھ اوّل سے میں ہی چُوکا

دامان و جیب ہی کچھ ٹکڑے نہیں ہیں ناصح
ہے چاک میرے ہاتھوں سینہ تو اب رفو کا

خاموش ہی رہا وہ ہر گز حسنؔ نہ بولا
جس کو مزا پڑا کچھ اُس لب کی گفتگو کا

میر حسن 

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا