ہر ایک بات میں تیرا

ہر ایک بات میں تیرا ہی تذکرہ نکلا
ترا خیال مرے دل میں جا بجا نکلا

کوئی فصیل بھی تو درمیاں نہ تھی اپنے
مگر وہ فاصلہ صدیوں کا فاصلہ نکلا

مرے تمام حوالے بھی اجنبی نکلے
مرے مزاج کا اک تو ہی آشنا نکلا

تمام عمر گزاری ہے رہ نوردی میں
جو راستہ بھی ملا ایک دائرہ نکلا

ہوئی نہ جیت کسی کی نہ کوئی مات ہوئی
جنون کا وہ خرد سے معاملہ نکلا

عجیب لوگ تھے سعدیؔ خدا کی بستی کے
"کوئی خدا کوئی ہمسایۂِ خدا نکلا”

سعید سعدی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے