ہونے کا احساس

ہونے کا احساس دلانا پڑتا ہے
خود کو دنیا سے منوانا پڑتا ہے

ڈٹ جانا حالات سے تم مت گھبرانا
سچ کی خاطر سر کٹوانا پڑتا ہے

جن لوگوں کا ظاہر کچھ ہو باطن کچھ
ایسے لوگوں سے کترانا پڑتا ہے

جس رستے میں تیری یادیں بکھری ہیں
روز اسی رستے سے جانا پڑتا ہے

دل کو سمجھانا کچھ مشکل کام نہیں
دیواروں سے سر ٹکرانا پڑتا ہے

دستک دے کر ہار نہیں مانا کرتے
کچھ دروازوں کو کھلوانا پڑتا ہے

کیوں غیروں سے امیدیں وابستہ ہوں
خود ہی اپنا بوجھ اٹھانا پڑتا ہے

سعید سعدی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے