ہنسنے ہنسانے پڑھنے پڑھانے کی عمر ہے

ہنسنے ہنسانے پڑھنے پڑھانے کی عمر ہے

یہ عمر کب ہمارے کمانے کی عمر ہے

لے آئی چھت پہ کیوں مجھے بے وقت کی گھٹن

تیری تو خیر بام پہ آنے کی عمر ہے

تجھ سے بچھڑ کے بھی تجھے ملتا رہوں گا میں

مجھ سے طویل میرے زمانے کی عمر ہے

اولاد کی طرح ہے محبت کا مجھ پہ حق

جب تک کسی کا بوجھ اٹھانے کی عمر ہے

غربت کو کیوں نہ میں بھی شرارت کا نام دوں

دیوار و در پہ پھول بنانے کی عمر ہے

کوئی مضائقہ نہیں پیری کے عشق میں

ویسے بھی یہ ثواب کمانے کی عمر ہے

اظہر فراغ

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا