ہمیں کس طرح بھول جائے گی دنیا

ہمیں کس طرح بھول جائے گی دنیا
کہ ڈھونڈھے سے ہم سا نہ پائے گی دنیا

مجھے کیا خبر تھی کہ نقشِ وفا کو
بگاڑے گی دنیا بنائے گی دنیا

محبت کی دنیا میں کھویا ہوا ہوں
محبت بھرا مجھ کو پائے گی دنیا

ہمیں خوب دے فریب محبت
ہمارے نہ دھوکے میں آئے گی دنیا

قیامت کی دنیا میں ہے دل فریبی
قیامت میں بھی یاد آئے گی دنیا

رلا دوں میں بہزاد دنیا کو خود ہی
یہ مجھ کو بھلا کیا رلائے گی دنیا

بہزاد لکھنوی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے