دیوانہ بنانا ہے تو دیوانہ بنا دے

دیوانہ بنانا ہے تو دیوانہ بنا دے

ورنہ کہیں تقدیر تماشا نہ بنا دے

اے دیکھنے والو مجھے ہنس ہنس کہ نہ دیکھو

تم کو بھی محبت کہیں مجھ سا نہ بنا دے

میں ڈھونڈ رہا ہوں میری وہ شمع کہاں ہے

جو بزم کی ہر چیز کو دیوانہ بنا دے

بہزاد لکھنوی

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان