حیرت بھر کر آنکھوں میں رہ جاتے ہیں

حیرت بھر کر آنکھوں میں رہ جاتے ہیں
سپنے خالی جیبوں میں رہ جاتے ہیں

تعبیروں کے روز جنازے اُٹھتے ہیں
آنکھوں والے خوابوں میں رہ جاتے ہیں

ڈھل جاتے ہیں پھر اک بار کٹھالی میں
جذبے کھوٹے سکّوں میں رہ جاتے ہیں

بازاروں میں اور ہی قصّے چلتے ہیں
شاعر غزلوں نظموں میں رہ جاتے ہیں

موڑ، کہانی اور کوئی مُڑ جاتی ہے
ہم اپنے اندازوں میں رہ جاتے ہیں

منزل سے کوئی اور وصال مناتا ہے
ہم راہوں کی بانہوں میں رہ جاتے ہیں

عمران ہاشمی

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

نہیں خزاں ہی نشان قاتل