آنکھ سے دور جائیے

آنکھ سے دور جائیے خواب سے پیار کیجئے
پائیے من کی خواہشیں قول و قرار کیجئے

عشق میں ایک بار اگر ہو نہیں پائے کامیاب
دل نہیں چھوڑیے جناب دوسری بار کیجئے

کیا ہے وفا و بے وفا روگ نہ لیجئے لگا
موت کو بھول جائیے جینا شعار کیجئے

عشق نہیں جو ہوسکا اس میں ہے غم کی بات کیا
دل کو ہیں کام بے بہا، دل پہ نہ بار کیجئے

بچ کے نہ جا سکے کہیں چھوڑ ہی دے نہیں نہیں
اس طرح جال پھینکیے ایسا شکار کیجئے

عمران ہاشمی

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی