بر سرِدار مَیں اکیلا ہوں

بر سرِ دار مَیں اکیلا ہوں
آخرِ کار مَیں اکیلا ہوں

سب نے چکّھا تھا پھل تمنا کا
اب گنہگار مَیں اکیلا ہوں

ہیں مِرے دوست سب، کنارے پر
بِیچ منجدھار، مَیں اکیلا ہوں

دیکھتا کیا ہے دائیں بائیں مِرے
کھینچ تلوار، مَیں اکیلا ہوں

ہاں یہی سچ ہے، اب یہی سچ ہے
مرحلہ وَار مَیں اکیلا ہوں

یعنی ہر بار سب تمہارے ہیں
یعنی ہر بار مَیں اکیلا ہوں

منزلوں سے مِری نہیں بنتی
میری رفتار، مَیں اکیلا ہوں

عمران ہاشمی

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا