کہا میں نے کہ یوں

کہا میں نے  کہ یوں اپنوں سے شرمانا نہیں اچھا
کہا اس نے کوئی تم سا بھی دیوانہ نہیں اچھا

کہا کہ تم اپنی محبت بخش دو مُجھکو
کہا اس نے بدن ہر نام لکھوانا نہیں اچھا

ک میں نے کہ تم ریشم ہی ریشم ہو قسم لے لو
کہا اس نے کہ یوں باتوں میں الجھانا نہیں اچھا

کہا میں نے تری آنکھوں میں اک گہرا سمندر ہے
کہ اس نے ہاں لیکن اتر جانا نہیں اچھا

کہا میں نے مرے آنگن میں ساون لے کے آجاو
ک اس نے کہ بن موسم برس جانا نہیں اچھا

کہا میں نے زمانہ روکتا ہے تیری راہوں سے
کہا اس نے کہ دیوانے کو سمجھانا نہیں اچھا

کہا میں نے کوئی مجھ سے شکایت ہو تو کہ ڈالو
کہا اس نے ہمیشہ دیر سے آنا نہیں اچھا

کہا میں نے سحر کا اب ستارہ آن پہنچا ہے
کہا اس نے کہ اس شب کا گزر جانا نہیں اچھا

عمران ہاشمی

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

نہیں خزاں ہی نشان قاتل