شہپر

شہپر

(گلزارؔ کے لیے)

اس کو خود بھی تو کچھ معلوم نہ تھا
لوگ یہ بات سمجھتے کیسے؟
پرِ پروا ز ابھی نازک تھے
صغر سن طفل تھا
ریعانِ بلوغت سے بہت قبل مگر
اونچا اڑنے کے لیے
بال و پر تولتے رہنا ہی تھی عادت اس کی
اور پھر ایک دن ایسا ہی ہوا

جیسے شہباز کا ننھا بچہ
اونچی چوٹی پہ کہیں بیٹھا ہوا
یک بیک جست بھرے
اور افلاک کی لا سمت بلندی میں کہیں
دور تک اڑتے ہوئے
آنکھ سے اوجھل ہو جائے….
اس نے پر کھول کر اک جست بھری
اور اڑتا ہی گیا!

اس کو پہلے تو یہ معلوم نہ تھا
زندگی بھر کی مگر اونچی اڑانوں کے بعد
اس کو احساس ہے اب
اس کے شہپر کی بُنت کاری میں
بالِ جبریل بھی شامل تھا کہیں!

ستیا پال آنند

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے