تیر تلوار جو اب مجھ پہ اٹھائے ہوئے ہیں

تیر تلوار جو اب مجھ پہ اٹھائے ہوئے ہیں
یہ وہی لوگ ہیں جو میرے بنائے ہوئے ہیں

نسل در نسل جو اک سایہ ہے مجھ تک پہنچا
پیڑ پرکھوں نے محبت کے لگائے ہوئے ہیں

ایک تصویر سے جب گرد جھڑی , یاد آیا
ہائے ! کچھ لوگ جو اپنے تھے, پرائے ہوئے ہیں

اس لیے پیڑ کے سینے سے لہو بہتا ھے
میں نے کچھ زخم بھی شاخوں کو دکھائے ہوئے ہیں

اس لیے مجھ کو میسر نہیں تعبیر کا رنگ
نیند اپنی ھے مگر خواب چرائے ہوئے ہیں

رانا عثمان احامر

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان