گر جائے جو دیوار تو ماتم نہیں کرتے

گر جائے جو دیوار تو ماتم نہیں کرتے

کرتے ہیں بہت لوگ مگر ہم نہیں کرتے

ہے اپنی طبعیت میں جو خامی تو یہی ہے

ہم عشق تو کرتے ہیں مگر کم نہیں کرتے

نفرت سے تو بہتر ہے کہ رستے ہی جدا ہوں

بے کار گزر گاہوں کو باہم نہیں کرتے

ہر سانس میں دوزخ کی تپش سی ہے مگر ہم

سورج کی طرح آگ کو مدھم نہیں کرتے

کیا علم کہ روتے ہوں تو مر جاتے ہوں فیصل

وہ لوگ جو آنکھوں کو کبھی نم نہیں کرتے

فیصل عجمی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے