جہاں سے بھی آئے

جہاں سے بھی آئے

مگر روشنی اور خوابوں کے سب رنگ نظموں میں ہیں

( کسی گل بدن سے چرائے نہیں )

بچا کر مری آنکھ ِ ِ ِ ان میں سے کچھ کو

زمیں سے دھنک تک

بہت کھل کے برسی ہوئی تیز بارش کی

رقصاں ہوا لے گئی

جو باقی بچے ہیں

انہیں چار سُو ہاتھ پھیلائے

بے رنگ پھولوں کو دے دوں

چلو ان پہ کچھ دن بہاروں کا موسم تو آئے

جہاں سے بھی آئے

فیصل عجمی

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے