آ گیا ہے کوئی بام پر غالباً

آ گیا ہے کوئی بام پر غالباً
ہونے والی ہے غم کی سحر غالباً

دل کی بے چینیوں کو قرار آ گیا
آنے والا ہے کوئی ادھر غالباً

راکھ میں اب بھی باقی ہیں چنگاریاں
کوئی . جلتا رہا رات بھر غالباً

جب تپش دل تک آئی تو ایسا لگ
پھونک ڈالا خود اپنا ہی گھر غالباً

اب اسی کے لئے کوئی رکتا نہیں
زندگی ہے بہت مختصر غالباً

لاش پر یہ سمجھ کر وہ بیٹھ رہے
آج. سویا . ہوں. میں بے خبر غالباً

اے حسن یہ کہاں آپ تنہا چلے
کھو گیا ہے کہیں ہم سفر غالباً

حسن فتحپوری

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی