گوارہ نہیں آج کل کی جدائی

گوارہ نہیں آج کل کی جدائی
مجھے صدیاں لگتی ہے پل کی جدائی

جدائی کا مطلب نہیں جانتا وہ
جو دیتا ہے مچھلی کو جل کی جدائی

مجھے چھوڑ کر تم ابھی جا رہے ہو
نہ بن جائے اک دن ازل کی جدائی

ہم اک دوسرے کے لئے جی رہے ہیں
جدا کیا کرے گی اجل کی جدائی

جدائی کو سر پر اٹھا کر تو دیکھے
بڑی جس کو لگتی ہے ہلکی جدائی

وہ صحرا میں لیلیٰ کو دن رات ڈھونڈے
نہ مانگے کبھی قیس تھل کی جدائی

وہ اک دوسرے کی محبت میں خوش ہیں
نہ مانے گی تتلی کنول کی جدائی

نہ باتیں کرو دور جانے کی ہمدم
کٹھن ہے بڑی اِس غزل کی جدائی

کویتا غزل مہرا

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے