وہ بے بسی کہ جسم میں

وہ بے بسی کہ جسم میں جاں بھی نہیں رہی
اس پر ستم کہ رسمِ فغاں بھی نہیں رہی

آنکھیں بھی عشق لے گیا اک پل میں نوچ کے
اس سانحے میں میری زباں بھی نہیں رہی

ایسا اداسیوں نے کیا ہے مجھے اسیر
رہنا تھا خوش جہاں پہ ، وہاں بھی نہیں رہی

دل تو ہے ایک میرا مگر عارضے ہیں دو
بابا بھی جا چکے مری ماں بھی نہیں رہی

دنیا سے اتنا اوب گیا جی کہ بعدِ ہجر
سینے میں آرزوئے بتاں بھی نہیں رہی

انہونیوں کا اس قدر بستی پہ راج ہے
کومل کہیں پہ جائے اماں بھی نہیں رہی

کومل جوئیہ

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی