ذرا سا زخم کو جونہی قرار آتا ہے

ذرا سا زخم کو جونہی قرار آتا ہے
عقب سے پھر نیا یاروں کا وار آتا ہے

میں بن بلائے بھی ہوتی ہوں گفتگو میں شریک
تمہارا ذکر جہاں بار بار آتا ہے

میں ناخدا اسے کیسے کہوں گی میرے خدا
مجھے جو بیچ بھنور میں اتار آتا ہے

شکاریوں کی نظر سے بچی ہوئی ہوں میں
کبھی کبھی مجھے پنجرے پہ پیار آتا ہے

اسی کے شانے پہ سر رکھ کے رونے لگتے ہو
تمہارے سامنے جو غمگسار آتا ہے

کومل جوئیہ

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا