گرد ہوں یا غبار ہوں کیا ہوں

گرد ہوں یا غبار ہوں کیا ہوں
خاک ہوں خاکسار ہوں کیا ہوں

نہیں معلوم لاغری سے میں
رگِ گل ہوں کہ خار ہوں کیا ہوں

جوں نگیں اتنی سینہ کادی ہے
میں اگر نام دار ہوں کیا ہوں

اتنا ہوں ہوشیار غفلت میں
میں اگر ہوشیار ہوں کیا ہوں

جاں نثاری سے اپنی شاد ظفرؔ
میں جو اُس پر نثار ہوں کیا ہوں

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے