اک جادوگر ہے آنکھوں کی بستی میں

اک جادوگر ہے آنکھوں کی بستی میں

تارے ٹانک رہا ہے میری چنری میں

میرے سخی نے خالی ہاتھ نہ لوٹایا

ڈھیروں دکھ باندھے ہیں میری گٹھڑی میں

کون بدن سے آگے دیکھے عورت کو

سب کی آنکھیں گروی ہیں اس نگری میں

جن کی خوشبو چھید رہی ہے آنچل کو

کیسے پھول وہ ڈال گیا ہے جھولی میں

جس نے مہر و ماہ کے کھاتے لکھنے ہوں

میں اک ذرہ کب تک اس کی گنتی میں

عشق حساب چکانا چاہا تھا ہم نے

ساری عمر سما گئی ایک کٹوتی میں

حرف زیست کو موت کی دیمک چاٹ بھی لے

کب سے ہوں محصور بدن کی گھاٹی میں

حمیدہ شاہین

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان