دنیا ء بے ثبات کی تصویر دیکھ کر

دنیا ء بے ثبات کی تصویر دیکھ کر
دل رو رہا ہے حالتِ تحقیر دیکھ کر

اس زندگی سے ہم کو محبت نہیں رہی
بگڑی ہو ئ حیات کی تصویر دیکھ کر

ہر گز کسی کے سامنے مت سر جھکائیے
شمشیر دیکھ کر نہ کو ئ تیر دیکھ کر

شرمندہ ہو رہی ہے سرِ راہ زندگی
ظلمت کدوں کی ناچتی زنجیر دیکھ کر

یارب یہ کیسا دور ہے کہہ آدمی ترے
ڈرتا نہیں عزاب کی شمشیر دیکھ کر

عزت کا اپنی آپ جنازہ نکال کے
نادان خوش ہے اپنی ہی تحقیر دیکھ کر

پروردگار شازیہ گھبرا گئی ہے اب
تیرے چمن کی اجڑی یہ تصویر دیکھ کر

شازیہ طارق

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے